ساغرصدیقی اردو شاعری


رُودادِ محبّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے
دو دِن کی مُسرّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
(ساغر صدیقی)




میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست

مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار
میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو
اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست

دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست

جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبُرو
اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست

ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش
ساقی سے میں ادُھار کا قائل نہیں ہوں دوست
(ساغر صدیقی)




بُھولی ہوئی صدا ہوں مجھے یاد کیجیے
تم سے کہیں ملا ہوں مجھے یاد کیجیے

منزل نہیں ہوں ، خضر نہیں ، راہزن نہیں
منزل کا راستہ ہوں مجھے یاد کیجیے

میری نگاہِ شوق سے ہر گُل ہے دیوتا
میں عشق کا خدا ہوں مجھے یاد کیجیے

نغموں کی ابتدا تھی کبھی میرے نام سے
اشکوں کی انتہا ہوں مجھے یاد کیجیے

گُم صُم کھڑی ہیں‌دونوں جہاں کی حقیقتیں
میں اُن سے کہہ رہا ہوں مجھے یاد کیجیے

ساغر کسی کے حُسنِ تغافل شعار کی
بہکی ہوئی ادا ہوں مجھے یاد کیجیے
(ساغر صدیقی)




محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑدیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دَم توڑدیا

آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑدیا

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑدیا

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑدیا
(ساغر صدیقی)




پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دئیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دئیے

نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دئیے
غنچہ کسی نے شاخ سےتو ڑا تورو دئیے

اڑتا ہوا غبار سر راہ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دئیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دئیے

رنگ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
سا غر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دئیے
(ساغر صدیقی)




نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا
اب درد دل علاج و دوا سے گزر گیا

ان کا خیال بن گئیں سینے کی دھڑکنیں
نغمہ مقام صورت و صدا سے گزر گیا

اعجاز بے خودی ہے کہ یہ حسن بندگی
اک بت کی جستجو میں خدا سے گزر گیا

انصاف سیم و زر کی تجلی نے ڈس لیا
ہر جرم احتیاج سزا سے گزر گیا

الجھی تھی عقل و ہوش میں ساغر رہ حیات
میں لے کے تیرا نام فنا سے گزر گیا
(ساغر صدیقی)




کب سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے

ایک ننھا سا آرزو کا دیا
ضوفشاں تھا بہار سے پہلے

اب تماشا ہے چار تنکوں‌کا
آشیاں تھا بہار سے پہلے

اے مرے دل کے داغ یہ تو بتا
تو کہاں تھا بہار سے پہلے

پچھلی شب میں خزان کا سناٹا
ہم زباں‌تھا بہار سے پہلے

چاندنی میں ‌یہ آگ کا دریا
کب رواں تھا بہار سے پہلے

بن گیا ہے سحابِ موسمِ گل
جو دھواں تھا بہار سے پہلے

لُٹ گئی دل کی زندگی ساغر
دل جواں‌تھا بہار سے پہلے
(ساغر صدیقی)



بزمِ کونین سجانے کے لیے آپ ﷺ آئے
شمعِ توحید جلانے کے لیے آپ ﷺ آئے

ایک پیغام ، جو ہو دل میں اُجالا کردے
ساری دُنیا کو سُنانے کے لیے آپ ﷺ آئے

ایک مدّت سے بھٹکتے ہوئے انسانوں کو
ایک مرکز پہ بلانے کے لیے آپ ﷺ آئے

ناخدا بن کے اُبلتے ہوئے طوفانوں میں
کشتیاں پار لگانے کے لیے آپ ﷺ آئے

قافلہ والے بھٹک جائیں نہ منزل سے کہیں
دُور تک راہ دکھانے کے لیے آپ ﷺ آئے

چشمِ بید کو اسرارِ خدائی بخشے
سونے والوں کو جگانے کے لیے آپ ﷺ آئے
(ساغر صدیقی)




محمد ﷺ باعثِ حُسن جہاں ایمان ہے میرا
محمد ﷺ حاصلِ کون و مکاں ایمان ہے میرا

محمد ﷺ اوّل و آخر محمد ﷺ ظاہر و باطن
محمد ﷺ ہیں بہر صورت عیاں ایمان ہے میرا

شرف اِک کملی والے نے جنہیں بخشا ہے قدموں میں
وہ صحرا بن گئے ہیں گلستاں ایمان ہے میرا

محبت ہے جسے غارِ حرا میں رونے والے سے
وہ انساں ہے خدا کا رازداں ایمان ہے میرا


معطّر کر گئے ساغرؔ فضائے گلشنِ ہستی
نبی ﷺ کے گیسوئے عنبر فشاں ایمان ہے میرا
(ساغر صدیقی)




جاری ہے دو جہاں پہ حکومت رسول ﷺ کی
کرتے ہیں مہر و ماہ اطاعت رسول ﷺ کی

ایمان ایک نام ہے حُبِّ رسول ﷺ کا
ہے خُلد کی بہار محبت رسول ﷺ کی

نوکِ مژہ پہ جن کی رہے اشکِ کربلا
پائیں گے حشر میں وہ شفاعت رسول ﷺ کی

غارِ حِرا کو یاد ہیں سجدے رسول ﷺ کے
دیکھی ہے پتھروں نے عبادت رسول ﷺ کی

دامانِ عقل و ہوش سہارا نہ دے مُجھے
چاہت خدا کی بن گئی چاہت رسول ﷺ کی

ساغرؔ تمام عالم ہستی ہے بے حجاب
آنکھوں میں بس رہی ہے وہ خلوت رسول ﷺ کی
(ساغر صدیقی)




سرمایہ حیات ہے سِیرت رسول ﷺ کی
اسرارِ کائنات ہے سِیرت رسول ﷺ کی

پُھولوں میں ہے ظہُور ستاروں میں نُور ہے
ذاتِ خُدا کی بات ہے سِیرت رسول ﷺ کی

بنجر دِلوں کو آپ نے سیراب کردیا
اِک چشمہ صفات ہے سِیرت رسول ﷺ کی

چشمِ کلیم ایک تجلّی میں بِک گئی
جلووں کی واردات ہے سیرت رسول ﷺ کی

جور و جفا کے واسطے برقِ ستم سہے
دُنیائے التفات ہے سیرت رسول ﷺ کی

تصویر زندگی کو تکلّم عطا کیا
حُسنِ تصّورات ہے سیرت رسول ﷺ کی

ساغرؔ سرور و کیف کے ساغر چھلک اُٹھے
صبحِ تجلّیات ہے سیرت رسول ﷺ کی
(ساغر صدیقی)


دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں
بادہ خانوں کی خبر رکھتے ہیں

خارزاروں سے تعلق ہے ہمیں
گُلستانوں کی خبر رکھتے ہیں


ہم اُلٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب
ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں


اُن کی گلیوں کے مکینوں کی سُنو
لا مکانوں کی خبر رکھتے ہیں


چند آوارہ بگولے اے دوست
کاروانوں کی خبر رکھتے ہیں


زخم کھانے کا سلیقہ ہو جنہیں
وہ نشانوں کی خبر رکھتے ہیں


کُچھ زمینوں کے ستارے ساغرؔ

 آسمانوں کی خبر رکھتے ہیں

(ساغر صدیقی)
 

 

وقت کی عُمر کیا بڑی ہو گی
اِک تیرے وصل کی گھڑی ہو گی

دستکیں دے رہی ہے پَلکوں پر
کوئی برسات کی جَھڑی ہو گی

کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی
پُھول کی ایک پنکھڑی ہو گی

زُلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر
چاندنی سے صبا لڑی ہو گی

اے عدم کے مسافرو! ہُشیار
راہ میں زندگی کھڑی ہو گی

کیوں گِرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے
جاں کِسی پھول کی اَڑی ہو گی

التجا کا ملال کیا کیجئے
ان کے دَر پر کہیں پڑی ہو گی

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔ
زندگی کی کوئی کڑی ہو گی

(ساغر صدیقی)



ہَر شے ہے پُر ملال بڑی تیز دُھوپ ہے
ہَر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دُھوپ ہے

چکرا کے گِر نہ جاؤں میں اِس تیزُ دھوپ میں
مُجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دُھوپ ہے

دے حکم بادلوں کو خیابان نشین ہُوں
جام و سبُو اُچھال بڑی تیز دُھوپ ہے

ممکن ہے ابرِ رحمت یزداں برس پڑے
زُلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی تیز دُھوپ ہے

اب شہر آرزُو میں وہ رعنائیاں کہاں
ہیں گلُ کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے

سمجھی ہے جس کو سائیہ اُمّید عقلِ خام
ساغرؔ کا ہے خیال بڑی تیز دُھوپ ہے

(ساغر صدیقی)



چاکِ دامن کو جو دیکھا تو مِلا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بُھول گیا عید کا چاند

اُن کے اَبروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُھپا عید کا چاند

جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چپکے سے کہا عید کا چاند

دُور ویران بسیرے میں دِیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عِید کا چاند

لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خُلد کی رنگین فضا عید کا چاند

تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر دَرد کے ماروں نے پیا عید کا چاند

چشم تو وُسعتِ افلاک میں کھوئی ساغرؔ
دِل نے اِک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند

(ساغر صدیقی)



ذرا کُچھ اور قُربت زیرِ داماں لڑ کھڑاتے ہیں
مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں

تخیّل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں
تصّور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں

قرارِ دین و دُنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہے
سہارے دیکھ کر زُلفِ پریشاں لڑکھڑاتے ہیں

تیری آنکھوں کے افسانے بھی پیمانے ہیں مستی کے
بنامِ ہوش مدہوشی کے عُنواں لڑکھڑاتے ہیں

سُنو! اے عِشق میں توقیرِ ہستی ڈھونڈنے والو
یہ وہ منزل ہے جس منزل پہ انساں لڑکھڑاتے ہیں

تمہارا نام لیتا ہُوں فضائیں رقص کرتی ہیں
تمہاری یاد آتی ہے تو ارماں لڑکھڑاتے ہیں

کہیں سے میکدے میں اس طرح کے آدمی لاؤ
کہ جن کی جنبشِ اَبرو سے ایماں لڑکھڑاتے ہیں

یقینا حشر کی تقریب کے لمحات آپہنچے
قدمِ ساغرؔ قریب کوئے جاناں لڑکھڑاتے ہیں

(ساغر صدیقی)



چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا
ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے

مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے

فراز عرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے

بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھے یقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

جسے زبان خرد میں شراب کہتے ہیں
وہ روشنی سی پلاؤ! بڑا اندھیرا ہے

بنام زہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے
(ساغر صدیقی)



چاندنی شب ہے ستاروں کی ردائیں سی لو
عید آئی ہے بہاروں کی ردائیں سی لو

چشم ساقی سے کہو تشنہ اُمیدوں کے لیے
تُم بھی کچھ بادہ گُساروں کی ردائیں سی لو

ہر برس سوزن تقدیر چلا کرتی ہے
اب تو کُچھ سینہ فگاروں کی ردائیں سی لو

لوگ کہتے ہیں تقدس کے سُبو ٹوٹیں گے
جُھومتی رہگزاروں کی ردائیں سی لو

قلرم خُلد سے ساغر کی صدا آتی ہے
اپنے بے تاب کناروں کی ردائیں سی لو

(ساغر صدیقی)



کوئی نالہ یہاں رَسا نہ ہُوا
اشک بھی حرفِ مُدّعا نہ ہُوا

تلخی درد ہی مقدّر تھی
جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہُوا

ماہتابی نگاہ والوں سے
دل کے داغوں کا سامنا نہ ہُوا

آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں
میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا

وہ شہنشہ نہیں، بھکاری ہے
جو فقیروں کا آسرا نہ ہُوا

رہزن عقل و ہوش دیوانہ
عشق میں کوئی رہنما نہ ہُوا

ڈوبنے کا خیال تھا ساغرؔ
ہائے ساحل پہ ناخُدا نہ ہُوا
(ساغر صدیقی)




فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا
ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا

نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا
جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا

دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے
کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا

قفس میں یُوں بھی تسلّی بہار نے دی ہے
چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا

وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے
حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا

تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو
نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا

حیات و موت کی تفریق کی کریں ساغرؔ
ہماری شانِ خودی کہہ رہی سب اچھا

(ساغر صدیقی)

5 comments:

  1. Anybody knows..... Saghir Siddiqui Sb ki last ghazal kon c thi... If anybody knows then please mail me on sami_rizwan4u@hotmail.com. I will be grateful...

    ReplyDelete

  2. ریت کی مِٹتی لکیروں میں بہت غور سے ہم
    اپنی گم کردہ سی منزل کا نشاں ڈُھونڈتے ہیں
    کتنے سادہ ہیں نشانے پہ کھڑے ہوکے بتول
    تیر کو تھام کے ہاتھوں میں ‘ کماں ڈُھونڈتے ہیں

    ReplyDelete
  3. ساغر صدیقی جیسا شاعر پھر عہیں آےء گا
    وہ واعقی میں درویش صفت انسان تھے

    ReplyDelete
  4. ساغر صدیقی جیسا شاعر پھر عہیں آےء گا
    وہ واعقی میں درویش صفت انسان تھے

    ReplyDelete
  5. Fitrat k maqasid ki karta he tarjumani

    ReplyDelete