![]() |
| ڈاکٹر بشیر بدر |
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
بشیر بدر
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
بشیر بدر
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
بشیر بدر
مسافر ہیں ہم بھی، مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی
بشیر بدر
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
بشیر بدر
خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
بشیر بدر
ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے
بشیر بدر
یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے، اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
بشیر بدر
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو
بشیر بدر
ہم دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں
بشیر بدر

No comments:
Post a Comment