سعادت حسن منٹو کے مشہور اقوال

 
سعادت حسن منٹو کے اقوال 

"اگر میری تحریریں گندی ہیں، تو وہ معاشرہ گندا ہے جس میں آپ جی رہے ہیں"۔

منٹو

"ہمارے ہاں شرافت کا معیار صرف یہ ہے کہ گناہ چھپے رہیں"۔

 منٹو

"مذہب خطرے میں نہیں ہے، خطرے میں لیڈروں کی اپنی کرسیاں ہیں"۔

منٹو

"عورت جسم بیچ کر گندی کہلاتی ہے، مرد خرید کر بھی پاک رہتا ہے؟"

منٹو

"میں سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا، جو پہلے ہی ننگی ہے"۔

منٹو

"افسانہ حقیقت کو پیش کرتا ہے، اسے سدھارنا میرا کام نہیں"۔

منٹو

"عورت کا پیشہ نہیں بدل سکتے تو نام بدل دو، دل کو تسلی مل جائے گی"۔

منٹو

"انسان لباس بدلتا ہے، مگر اپنی خصلت کبھی نہیں بدلتا"۔

منٹو

"مذہب جب دلوں سے نکل کر سروں پر چڑھ جائے، تو وحشت بن جاتا ہے"۔

 منٹو


"موت ایک سچائی ہے، اور زندگی اس سچائی کو چھپانے کا ایک بہانہ"۔

 منٹو


ڈاکٹر بشیر بدر کے دس بہترین اشعار

 
ڈاکٹر بشیر بدر 

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

بشیر بدر


دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

بشیر بدر


کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

بشیر بدر


مسافر ہیں ہم بھی، مسافر ہو تم بھی

کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

بشیر بدر


خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

بشیر بدر


خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے

اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

بشیر بدر


ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں

صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

بشیر بدر

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر میں رہا کرو

وہ غزل کی سچی کتاب ہے، اسے چپکے چپکے پڑھا کرو

بشیر بدر


کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

یہ نئے مزاج کا شہر ہے، ذرا فاصلے سے ملا کرو

بشیر بدر


ہم دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں

عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

بشیر بدر


الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

 

Late Dr Bashir Badr

بشیر بدر اردو غزل کا وہ روشن نام تھے جنہوں نے محبت، ہجرت، تنہائی اور انسانی رشتوں کے دکھ سکھ کو نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں بیان کیا۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور بعد میں اردو ادب کی دنیا میں “بشیر بدر” کے نام سے شہرت پائی۔  


ابتدائی زندگی میں ہی والد کے انتقال کے بعد ان پر گھر کی ذمہ داریاں آ گئیں۔ کچھ عرصہ پولیس کی ملازمت بھی کی، مگر شاعری کا شوق انہیں ادب کی دنیا میں لے آیا۔ بعد ازاں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔  

بشیر بدر نے اردو غزل کو نئی زبان، نیا لہجہ اور نئی مقبولیت عطا کی۔ ان کے اشعار صرف مشاعروں تک محدود نہ رہے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو کا حصہ بن گئے۔ ان کی شاعری میں محبت کی نرمی بھی ہے اور زمانے کی تلخی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول رہے۔  

ان کے چند لازوال اشعار ہمیشہ زبان زدِ عام رہیں گے 


کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا

جو گلے ملو گے تپاک سے

 یہ نئے مزاج کا شہر ہے یہاں فاصلے سے ملا کرو 

اور

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترستے نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

1987ء کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر اور قیمتی ادبی سرمایہ جل گیا۔ اس سانحے نے ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ بعد میں وہ بھوپال منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔  


گزشتہ کئی برسوں سے وہ ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے اور گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ آج ان کی وفات سے اردو ادب کا ایک روشن باب ختم ہوگیا۔ مگر ان کے اشعار، ان کی آواز اور ان کا احساس ہمیشہ زندہ رہے گا۔  

بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ محبت اور انسان دوستی کی ایک پوری تہذیب کا نام تھے۔ اردو ادب ہمیشہ ان کا مقروض رہے گا۔

شیخ مقبول الہی گجرات پاکستان ۲۸ مئی