Showing posts with label Urdu Gazals. Show all posts
Showing posts with label Urdu Gazals. Show all posts

الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

 

Late Dr Bashir Badr

بشیر بدر اردو غزل کا وہ روشن نام تھے جنہوں نے محبت، ہجرت، تنہائی اور انسانی رشتوں کے دکھ سکھ کو نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں بیان کیا۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور بعد میں اردو ادب کی دنیا میں “بشیر بدر” کے نام سے شہرت پائی۔  


ابتدائی زندگی میں ہی والد کے انتقال کے بعد ان پر گھر کی ذمہ داریاں آ گئیں۔ کچھ عرصہ پولیس کی ملازمت بھی کی، مگر شاعری کا شوق انہیں ادب کی دنیا میں لے آیا۔ بعد ازاں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔  

بشیر بدر نے اردو غزل کو نئی زبان، نیا لہجہ اور نئی مقبولیت عطا کی۔ ان کے اشعار صرف مشاعروں تک محدود نہ رہے بلکہ عام لوگوں کی گفتگو کا حصہ بن گئے۔ ان کی شاعری میں محبت کی نرمی بھی ہے اور زمانے کی تلخی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول رہے۔  

ان کے چند لازوال اشعار ہمیشہ زبان زدِ عام رہیں گے 


کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا

جو گلے ملو گے تپاک سے

 یہ نئے مزاج کا شہر ہے یہاں فاصلے سے ملا کرو 

اور

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترستے نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

1987ء کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر اور قیمتی ادبی سرمایہ جل گیا۔ اس سانحے نے ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ بعد میں وہ بھوپال منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ گزارا۔  


گزشتہ کئی برسوں سے وہ ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے اور گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ آج ان کی وفات سے اردو ادب کا ایک روشن باب ختم ہوگیا۔ مگر ان کے اشعار، ان کی آواز اور ان کا احساس ہمیشہ زندہ رہے گا۔  

بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ محبت اور انسان دوستی کی ایک پوری تہذیب کا نام تھے۔ اردو ادب ہمیشہ ان کا مقروض رہے گا۔

شیخ مقبول الہی گجرات پاکستان ۲۸ مئی

Muhabat Mustaqil Gam Ha, Mohobat Gam Ka Gehwara, Sagar Siddiqui


Agar Bazme Hasti Ma Awrat Na Hothi, Sagar Siddiqui


Aey Husun Lala Fam Zara Ankh Tho Mila, Sagar Siddiqui


a Kashtioom Ka Na Kinaroom Ka Ahtiram Karo, Sagar Siddiqui


Taqdeer Ka kasa ha, Taqdeer Gadader Ha, Sagar Siddiqu


Terey Gam Ki Tilawat Kr Rhe Hain, Sagar Siddiqui


wo Bhulaye Tho Kya Tamasha Ho, Sagar Siddiqui


Sakoot e Gham se jo Guzrey Na Phir Mili Awaz, Sagar Siddiqui


Mefile Lut Gye Jazbat Ne Dam Tod Dya, Sagar Siddiqu


Parishan Akas Hasti Ayina Be Noor Dekha Ha, Sagar Siddiqui


Jo Hadse ye Jhan Mery Nam Kartha Ha, Sagar Siddiqui


Pholoom Ko Agg Lag Gayi Naghmat Jal Gaye, Sagar Siddiqui